حکومت وفاقی سروس ٹربیونل میں خالی ہونے والی آسامیوں کے باوجود مقدمات کے فیصلوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، عقیل ملک

22

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے قانون عقیل ملک نے پیر کوقومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وفاقی سروس ٹربیونل (ایف ایس ٹی) میں خالی ہونے والی آسامیوں کے باوجود مقدمات کے فیصلوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایف ایس ٹی آئین کے آرٹیکل 212 اور سروس ٹربیونلز ایکٹ کے تحت قائم ایک خودمختار فورم ہے جو ایک چیئرمین اور دس ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد جبکہ کیمپ آفس لاہور اور کراچی میں قائم ہیں۔وزیر مملکت نے بتایا کہ نومبر 2024 میں ارکان کی تین سالہ غیر توسیع پذیر مدت پوری ہونے پر دس نشستیں خالی ہوئیں جس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ کے جاری کردہ رہنما اصولوں اور تعیناتی کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق فوری اقدامات کیے۔ اب تک چھ ارکان کی تعیناتی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ بقیہ چار نشستوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے۔

عقیل ملک نے مزید کہا کہ مقدمات میں تاخیر سے بچنے کے لیے ایف ایس ٹی نے بالمشافہ بینچوں کے ساتھ ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا سلسلہ بھی برقرار رکھا۔ نومبر 2024 سے نومبر 2025 تک کم از کم 83 مقدمات ویڈیو لنک کے ذریعے سنے گئے۔اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹربیونل کو مجموعی طور پر 1,653 مقدمات موصول ہوئے، جن میں سے 1,002 مقدمات نمٹا دیے گئے جبکہ 538 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف ایس ٹی مکمل طور پر فعال ہے اور جدید وسائل استعمال کرتے ہوئے سماعتوں کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اگر توجہ دلانے والے رکن کو خصوصی ٹربیونلز یا خالی آسامیوں سے متعلق مزید تفصیلات درکار ہوں تو متعلقہ وزارت مکمل دستاویزات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت عدالتی رہنما اصولوں کی مکمل پاسداری کر رہی ہے اور سروس جسٹس کو ہر حال میں بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.