ایچ آئی وی کے خاتمے کے لئے طبی عملہ،ریگولیٹری اداروں اور عوام کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی، ڈی جی ہیلتھ پاکستان

46

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پاکستان ڈاکٹر عائشہ مجید عیسانی نے کہا کہ ایچ آئی وی اور اس کے ساتھ جڑی بدنامی صرف حکومت کی کوششوں سے ختم نہیں ہو سکتی، اس کے خاتمے کے لئے طبی عملہ،ریگولیٹری اداروں اور عوام کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ انتقالِ خون اور انجکشن کے طریقوں کو ختم کرنا ناگزیر ہے ، ہمیں مل کر ایک صحت مند اور ایچ آئی وی فری مستقبل کے لئے کام کرنا ہوگا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا عالمی منایا جاتا ہے ۔ایڈز سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت ، ایڈز کے خلاف اقوام متحدہ کا پروگرام )یو این ایڈز)اور وزارتِ صحت پاکستان نے ملک میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مرض پر قابو پانے کے لیےفوری اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جن میں سے 80 فیصد افراد اپنی حالت سے بے خبر ہیں۔

گزشتہ 15 سالوں میں ایچ آئی وی انفیکشنز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2010 میں 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ گیا۔ ماضی میں یہ مرض بنیادی طور پر ہائی رسک گروپس تک محدود تھا لیکن اب غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر محفوظ انجکشن، جنسی تعلقات اور صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث اس مرض سے بچے، خواتین اور عام لوگ بھی متاثر متاثر ہو رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے نے کہا ہے کہ بچوں میں بڑھتے کیسز اور حالیہ وبائی صورتحال پاکستان اور آئندہ نسل کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پاکستان کے شراکت داروں کے ساتھ ایڈز کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔یو این ایڈز پاکستان کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو 2030 تک ایڈز سے عوامی صحت کو لاحق خطرہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو فنڈنگ اور پروگرامنگ میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام تک خدمات پہنچ سکیں۔

پاکستان میں بچوں کو حالیہ برسوں میں غیر محفوظ انجکشن اور خون کی منتقلی کے ذریعے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے متعدد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ حاملہ خواتین میں صرف 14 فیصد علاج تک رسائی رکھتی ہیں جبکہ 0-14 سال کے بچوں میں صرف 38 فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز پاکستان کے ساتھ مل کر ایڈز سے لاحق خطرے کے خاتمے اور صحت مند مستقبل کے قیام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.