اسلام آباد۔4دسمبر:صدر مملکت آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم، بینکاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کوایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ایوان صدر میں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کا خیرمقدم کیا۔وفود کی سطح پر مذاکرات سے قبل دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے جائزے کے لیے مختصر (ون آن ون)ملاقات کی۔صدر مملکت نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً بیس سال بعد کرغزستان کے کسی صدر کا یہ اعلیٰ سطحی دورہ ہے اور یہ دورہ کرغزستان کے ساتھ پہلے سے موجود دوستانہ تعلقات میں نئی جان ڈالنے میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مشترکہ مذہب، تاریخی ورثے اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔دونوں صدور نے مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے باہمی تجارت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر آصف علی زرداری نےپاکستان-کرغزستان بزنس فورم میں کرغز کاروباری وفد کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کی مشترکہ خواہش کا اظہار ہے۔
صدر مملکت نے کاسا 1000 منصوبے کے کرغز حصے کی تکمیل پر کرغزستان کو سراہا۔ انہوں نے اس منصوبے کے پاکستانی حصے کی بروقت تکمیل کے عزم کو دہرایا جو اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ دونوں صدور نے علاقائی روابط پر بھی تبادلہ خیال کیا اور چہار فریقی ٹریفک ان ٹرانزٹ معاہدے کے تحت فعال زمینی راہداری پر اطمینان کا اظہار کیا۔صدر آصف علی زرداری نے کرغزستان کو بحیرہ عرب تک سب سے مختصر اور کم لاگت راہداری فراہم کرنے کی تیاری کا اعادہ کیا اور تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے براہ راست پروازوں کے اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کرغزستان کی حکومت اور عوام کا بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اور کارکنوں کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ صدر مملکت نے معزز مہمان کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے کرغزستان کو اپنی بزنس ویزا لسٹ اور ویزا پرائر ٹو ارائیول کیٹیگریز میں شامل کر لیا ہے اور پاکستانی تاجروں اور مسافروں کے لیے اسی طرح کی سہولت کاری کی حوصلہ افزائی کی۔
صدر مملکت نے اس موقع پر یہ بھی یاد دلایا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو 1995ء میں کرغزستان کی آزادی کے بعد دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی وزیراعظم تھیں اور وہ خود بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ تھے۔ملاقات میں دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، روابط، تعلیم، بینکاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔صدر ژپاروف نے صدر آصف علی زرداری کو آگاہ کیا کہ کرغزستان کے حالیہ عام انتخابات کے بعد ایک نیا قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت کم از کم 30 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے کرغزستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور صدر پاکستان کو اپنی سہولت کے مطابق کرغزستان کے دورے کی دعوت دی۔اس موقع پرعلاقائی اور بین الاقوامی صورتحال سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
ملاقات میں دونوں جانب کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کرغز وفد میں وزیر خارجہ ژینبیک کلوبائیف، وزیر سائنس، اعلیٰ تعلیم اور جدت بختیار اوروزوف، وزیر توانائی تالائبیک ابراہیو، وزیر معیشت و تجارت بکت سیدیکوف، نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر راوشان بیک سبیروف، صدارتی انتظامیہ کے شعبہ خارجہ پالیسی کے سربراہ ساگن بیک عبدو متالیپ، کرغزستان کے اٹارنی جنرل مکسات اسان علییف اور پاکستان میں کرغزستان کے سفیر کلچ بیک سلطان شامل تھے۔پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار،وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،وزیر توانائی اور بجلی سردار اویس احمد خان لغاری،سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا،رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری، سیکریٹری خارجہ،سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اور کرغزستان میں پاکستان کے سفیر شامل تھے۔
ملاقات کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی کابینہ کے اراکین، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور سفارتی کور کے ارکان نے شرکت کی۔صدر مملکت نے صدر صادر ژپاروف کو سالگرہ کی پیشگی مبارکباد بھی دی جو 6 دسمبر کو 57 برس کے ہو جائیں گے۔ اس موقع کی مناسبت سے آرکسٹرا نے وائلن پر ’’ہیپی برتھ ڈے‘‘بھی بجایا۔