11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا افتتاحی اجلاس، ایوارڈ کے عمل کو شفافیت، پیشہ ورانہ انداز، باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھانے کے عزم کااظہار، شرکا کامستقبل کے اجلاسوں کے شیڈول اور مخصوص امور کیلئے تکنیکی ذیلی گروپس بنانے پراتفاق

18

اسلام آباد۔4دسمبر:11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے افتتاحی اجلاس کے شرکا نے پاکستان کے عوام کے لیے منصفانہ اور پائیدار این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے کیلئے ایوارڈ کے عمل کو شفافیت، پیشہ ورانہ انداز، باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھانے کے عزم کااظہارکیاہے۔11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کاافتتاحی اجلاس جمعرات کویہاں وفاقی وزیرِ خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت وزارت خزانہ میں منعقدہوا۔ اجلاس میں سندھ سے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور ڈاکٹر اسد سعید (رکن ایف ایف سی)، خیبر پختونخوا سے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ڈاکٹر مشرف رسول سائیں، پنجاب سے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن اور ناصر محمود کھوسہ، بلوچستان سے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور محفوظ علی خان نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا کے لیے وزیراعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم بھی خصوصی طور پر مدعو تھے۔

چاروں صوبوں کے سیکرٹری خزانہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تمام شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے این ایف سی کی آئینی اہمیت اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاق نے کوشش کی ہے کہ 11ویں این ایف سی کا پہلا اجلاس فوراً بلایا جائے،اگرچہ تباہ کن سیلابوں کے باعث اجلاس موخر کرنا پڑا لیکن آج کا اجلاس اس بات کا اظہار ہے کہ تمام فریقین اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت شفاف اور مخلصانہ مکالمے کے لیے حاضر ہے اور صوبوں کے موقف کو سننے اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیرِ خزانہ نے صوبوں کی جانب سے قومی مالیاتی معاہدہ پر دستخط میں تعاون اور آئی ایم ایف کے تقاضوں کے مطابق مالی سرپلس دینے کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیلابوں کے باوجود 11ویں این ایف سی کا اجلاس جلد منعقد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کی ترقی، اتحاد اور خوشحالی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اتفاق رائے صرف اسی فورم میں بات چیت کے ذریعے پیدا ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی وفاق کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مضبوط صوبے اور مضبوط وفاق ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی جس میں بدقسمتی سے پھراضافہ ہوا،کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے جون 2018ء سے 7ویں این ایف سی کی قانونی حدود سے تجاوز کے معاملات حل ہوں گے اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی آبادی اور دیگر عوامل کو شامل کرکے صوبے کے حصے کو اپ ڈیٹ کیاجائیگا تاکہ انہیں مناسب نمائندگی دی جا سکے۔

انہوں نے اس ضمن میں دیگر صوبوں سے مثبت ردعمل کی بھی درخواست کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے پورے صوبے کو شامل کرکے 7ویں این ایف سی ایوارڈ کو آئین کے مطابق لانا ضروری ہے۔ پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اتفاقِ رائے ضروری ہے اور اس کے لیے سب کو محنت کرنا ہوگی۔انہوں نے وسائل کی صاف شفاف تقسیم اور وفاق و صوبوں کے درمیان پالیسی کے تسلسل پر زور دیا۔ وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان ہمیشہ وفاق اور صوبوں کے ساتھ تعاون کرتا آیا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے سوئی گیس، ریکو ڈیک اور سیندک جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچستان کے کردار کو اجاگر کیا۔اجلاس میں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کی حکمت عملی پر عمومی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے بعد چاروں صوبوں اور وفاق نے اپنے مالیاتی حالات اور ترجیحات سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشنز دیں۔

شرکا نے مستقبل کے اجلاسوں کے شیڈول پر بھی اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ مخصوص امور کے لئے تکنیکی ذیلی گروپس بنائے جائیں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ کہ سابق فاٹا /ضم شدہ اضلاع کے حصے سے متعلق ایک ذیلی گروپ تشکیل دیا جائے گا جو جنوری 2026ء کے وسط تک اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ 11ویں این ایف سی کے عمل کو شفافیت، پیشہ ورانہ انداز، باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار این ایف سی ایوارڈ تشکیل دیا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.