حکومت نے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی مرمت و بحالی کیلئے ریکارڈ فنڈز مختص کئے ہیں، گل اصغر خان

28

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو پیرکو آگاہ کیا گیا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی مرمت و بحالی کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے ہیں جبکہ گزشتہ تین برسوں میں ملک بھر میں سڑکوں کی دیکھ بھال پر 120 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔ایم این ایز عالیہ کامران، محمد عثمان بادینی اور شاہدہ بیگم نے ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی خستہ حالی پر توجہ مبذول کرائی، جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے ایوان کو تفصیلی جواب دیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے قومی شاہراہ نیٹ ورک کی مرمت کے لیے غیر معمولی فنڈز فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں این ایچ اے کے روڈ نیٹ ورک کا رقبہ پورے ملک کے نیٹ ورک کا 40 فیصد یعنی 3,785 کلومیٹر ہے، جسے دشوار گزار پہاڑی علاقوں، وسیع فاصلوں اور کم آبادی والے علاقوں کی وجہ سے مسلسل نگہداشت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران صرف بلوچستان میں سڑکوں کی مرمت پر 11.9 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ ملک بھر میں اسی مدت میں 120 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے۔پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ این ایچ اے سالانہ مرمت منصوبہ کے تحت کام کرتی ہے جو انجینئرنگ سرویئز اور تکنیکی جائزوں کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے کونسل سے منظور ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے لیے قومی سطح پر 31 ارب روپے مرمت کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کو خصوصی طور پر کراچی–چمن اقتصادی راہداری اور دیگر اہم شاہراہوں کے لیے 100 ارب روپے کے اضافی فنڈز دیے گئے ہیں۔گل اصغر خان نے کہا کہ اگرچہ این ایچ اے کے 40 فیصد روٹس بلوچستان میں ہیں لیکن صوبے سے ٹول ٹیکس کی وصولی نہایت کم ہے، جس سے مرمت کے لیے مالی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ این ایچ اے نے بلوچستان میں اہم قومی شاہراہوں پر 88 مرمتی منصوبے مکمل کیے، جن میں این 10پر 19 منصوبے 4.2 ارب روپے،این 25پر 22 منصوبے (292 کلومیٹر)7.9 ارب روپے،ہوشاب–ژوب راہداری پر 3 منصوبے 89 ملین روپے،گوادر–تربت–خضدار سیکشن پر 2 منصوبے،قلعہ سیف اللہ–لورالائی روٹ پر 10 منصوبے 1.4 ارب روپے،این 65پر متعدد کام 2.013 ارب روپے شامل ہیں۔

زیرِ تکمیل منصوبوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مزید 34 منصوبے این ایچ اے کے پلان میں شامل ہیں۔این 10پر 9 نئے منصوبے،کراچی–کوئٹہ (N-25) پر 12 منصوبے،ہوشاب–پنجگور–سوراب روٹس پر 8 منصوبے،خضدار–ژوب سیکشن پر 5 منصوبے شامل ہیں ۔گل اصغر خان نے کہا کہ بلوچستان کو سب سے زیادہ تناسب سے فنڈز دیے جا رہے ہیں۔

ہمارا مقصد سال بھر روڈ مینٹیننس کو بہتر بنانا، صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملک کے لیے اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ این ایچ اے ہر اس شاہراہ یا سیکشن کی تفصیلات دینے کے لیے تیار ہے جس کے بارے میں ارکان پوچھنا چاہیں۔آپ ہماری ٹیم کے ساتھ بیٹھیں، ہم تمام انجینئرنگ رپورٹس اور پروجیکٹ ڈیٹا شفافیت کے ساتھ فراہم کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.