اسلام آباد۔4دسمبر :چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کرغزستان کے ساتھ اعتماد، علاقائی استحکام اور امن و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی دیرپا سٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیاہے اور کہا ہے کہ دو طرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ وزارتی کمیشن جیسے مکینزم تجارت، روابط، صحت، تعلیم، توانائی، سیاحت اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے موثر فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔جمعرات کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے صدر کرغزستان صادر ژپاروف نے یہاں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی، دو طرفہ اہمیت اور کثیر الجہتی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سینیٹر کامل علی آغا، سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر اور چیئرمین سینیٹ کی مشیر،سفیر برائے آئی ایس سی مصباح کھر بھی موجود تھیں۔چیئرمین سینیٹ نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بین الپارلیمانی روابط کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کو مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز کی۔ چیئرمین سینیٹ نے کرغزستان کی سپریم کونسل کے ساتھ پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا جس میں فرینڈشپ گروپس، ادارہ جاتی مکالمہ اور تبادلہ پروگرام شامل ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کرغز صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوستی گہرے مشترکہ اقدار، ثقافتی قربت، اسلامی ورثے اور باہمی احترام کی طویل تاریخ پر مبنی ہے۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے مضبوط سیاسی تعلقات کا ذکر کیا جو اعلیٰ سطحی روابط اور اقوام متحدہ، او آئی سی، ای سی او اور ایس سی او سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر تعاون کے ذریعے مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ سیاسی مشاورت (بی پی سی) اور مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) جیسے مکینزم تجارت، روابط، صحت، تعلیم، توانائی، سیاحت اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے موثر فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔باہمی تعلقات کی اہم تاریخی جھلکیوں کو یاد کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے 1995ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے کرغزستان کے تاریخی دورے، 2010ء میں صدر آصف علی زرداری کی کرغز قیادت سے ملاقات اور 2011ء میں اپنے وزیراعظم کے دور میں بشکیک کے سرکاری دورے کا ذکر کیا جس دوران تجارت، عسکری تربیت اور مشترکہ بزنس کونسل کے قیام سے متعلق اہم معاہدے طے پائے۔
انہوں نے تاشقند میں آئی پی یو اسمبلی کے دوران کرغز پارلیمنٹ کے سپیکر سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا جس سے پارلیمانی تعلقات کو مزید وسعت ملی۔چیئرمین سینیٹ نے ای سی او اور او آئی سی کے پلیٹ فارمز پر بین الپارلیمانی اقدامات میں کرغزستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ نومبر 2025ء میں اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ’’اسلام آباد کمیونیک‘‘ کی منظوری کو عالمی پارلیمانی سفارتکاری کو مضبوط بنانے کی اہم پیشرفت قرار دیا۔ انہوں نے کرغزستان کے وفد کی فعال شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ آج دنیا کے درپیش بڑے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں کانفرنس کے دوران خودکش دھماکے کے باوجود تمام مندوبین پاکستان میں کانفرنس کے اختتام تک موجود رہے جو جمہوریت کی مضبوطی کی نشانی ہے۔علاقائی روابط کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور سی پیک کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ گوادر، بن قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں کرغزستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے لیے سٹریٹجک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کو آسان بنانے کے لیے چہار ملکی ٹریفک اِن ٹرانزٹ معاہدے (کیو ٹی ٹی اے) کو مزید فعال کرنے کے لیے تیار ہے۔
توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے CASA-1000 منصوبے کو وسطی اور جنوبی ایشیا کو صاف توانائی سے جوڑنے والا ایک نمایاں منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے دفاع، انسداد دہشت گردی، سائنسی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کرغزستان میں زیر تعلیم 18 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیاحت، ثقافتی تبادلے، براہ راست فضائی رابطوں اور ویزا میں آسانی کے وسیع مواقع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عوامی سطح پر روابط دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کرغزستان کے ساتھ اعتماد، علاقائی استحکام اور امن و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی دیرپا سٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ صدر صادر ژپاروف نے پاکستان کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی گہری خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے پاکستان کرغزستان تعلقات کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی، سفارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔