پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کی کمزوریاں اور کوتاہیاں در اندازی کے واقعات بڑھنے کی بڑی وجہ ہیں، عطاء اللہ تارڑ

49

لاہور۔30نومبر :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کی کمزوریاں اور کوتاہیاں دراندازی کے واقعات بڑھنے کی بڑی وجہ ہیں، گزشتہ 12 برسوں میں خیبر پختونخوا میں موثر پراسیکیوشن کا نظام قائم نہیں کیا جا سکا، صوبے میں پچھلے تین سالوں کے دوران ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ چار ہزار کے قریب مقدمات میں تاحال فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانے تو آتے ہیں لیکن انہیں ”پراسیکیوشن“ کے سپیلنگ نہیں معلوم، ساڑھے بارہ سالوں میں پی ٹی آئی کی حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا سدباب نہیں کر سکی، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے باعث قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا میں منشیات کی سمگلنگ کو پروموٹ کیا جاتا ہے، جنوری 2025ء سے اگست 2025ء تک صوبے میں دس ہزار سے زائد ڈرگ ٹریفکنگ کے مقدمات رجسٹرڈ ہیں، کے پی حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔

اتوار کو یہاں دہشتگردی کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی کوتاہیوں اور پی ٹی آئی کے ملک مخالف طرز عمل پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور افواہوں کو ہوا دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے جن کے پیچھے پی ٹی آئی کا ملک مخالف رویہ اور اس کی مبینہ سازشیں کار فرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ دہشت گردوں کا کس طرح مقابلہ کیا جا رہا ہے، ہمارے جوان اور افسران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور افغانستان کی جانب سے ہونے والی در اندازی کو روکنے کے لئے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ کس طریقے سے بارڈر کو محفوظ کیا جا رہا ہے تاہم ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومت اور سرحدی اضلاع کی کمزوریوں کے باعث بعض مقامات پر در اندازی بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اور افسران اپنے خون سے اس گیپ کو پُر کر رہے ہیں جو صوبائی حکومت کی غفلت اور کمزوریوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو مقامی علاقوں میں پناہ مل جانا، مضبوط پراسیکیوشن کا نظام نہ ہونا، گزشتہ برسوں میں چار ہزار سے زائد کیسز کا رجسٹرڈ ہونا اس امر کی نشاندہی ہے کہ صوبے میں سزا اور فرد جرم عائد ہونے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پراسیکیوشن کا نظام مکمل طور پر صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتا ہے، صوبائی حکومت ہی اس کو چلاتی اور مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کو اڈیالہ کے باہر نعرے لگانے اور جوتی کا ناپ دینا، تصویر صاف کرانا تو آتا ہے مگر پراسیکیوشن کے سپیلنگ نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر پراسیکیوشن کی ناکامی ہے کہ ایک صوبائی حکومت ساڑھے بارہ سال میں موثر پراسیکیوشن نظام قائم نہ کر سکی اور نہ ہی دہشت گردی کے مقدمات میں سزا دلوانے کا کوئی مضبوط نظام بنا پائی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فورسز اپنی جانیں نچھاور کر کے جو کامیابیاں حاصل کرتی ہیں، جن دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور جن کے خلاف مقدمات تیار ہوتے ہیں، انہیں آگے بڑھانے اور انجام تک پہنچانے کی قانونی صلاحیت صوبائی حکومت کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد کیسوں میں فرد جرم تک عائد نہیں کی جا سکی جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ لیگل ریفارمز کی گئیں، نہ پراسیکیوشن نظام بہتر بنایا گیا، اس کی وجہ پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس ہے، سیاسی لوگوں کا کریمنلز اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ریفارم نہیں کرنے دیتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا دنیا کا واحد صوبہ ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلتی ہیں، جہاں کی ایڈمنسٹریشن اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ گاڑی پر نان کسٹم پیڈ کی پلیٹ لگائیں ساڑھے 12 سالوں میں پی ٹی آئی کی حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا سدباب نہیں کر سکی، اس کے پیچھے سیاست دانوں کا مجرموں، کریمنلز اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے چند سال پہلے بشام میں ایک حساس واقعہ پیش آیا جس میں استعمال ہونے والی گاڑی نان کسٹم پیڈ تھی۔ انہوں نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو چیک کرنا کیا فوج کا کام ہے؟ یہ صوبائی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ناکام ہے اور اس کی پرفارمنس صفر ہے کیونکہ وہاں ایک پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس موجود ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کی سمگلنگ اور تجارت صوبائی حکومت کی نگرانی میں ہوتی ہے، ساڑھے 12 سال میں یہ کس کی ذمہ داری تھی کہ منشیات کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے، اس کو نکیل ڈالے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں منشیات کی سمگلنگ کو پروموٹ کیا جاتا ہے، یہ دہشت گردوں کو سزا نہیں دلواتے، جنوری 2025ء سے اگست 2025ء کے دوران دوران صوبے میں ڈرگ ٹریفکنگ کے10 ہزار سے زائد کیسز میں سے صرف 679 کیسز میں سزا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اتنا بڑا ڈرگ کارٹل وہاں موجود ہو اور صوبائی حکومت کو اس کا پتہ ہو اور وہ کوئی ایکشن نہ لے سکے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہاڑ کاٹ کر پتھر اور ماربل نکالا جا رہا ہے، مائنز کے غیر قانونی ٹھیکے دیئے گئے ہیں، اس کا اثر ماحولیات پر بھی پڑ رہا ہے، پہاڑ خالی ہو رہے ہیں اور انہوں نے اپنے لوگوں کو ٹھیکے دیئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں ایف بی آر میں ریفارمز ہوئیں، ورلڈ بینک کی سطح پر وفاقی حکومت کی پذیرائی ہوئی، ایف بی آر ٹیکس جمع کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اصلاحات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت پہاڑ کاٹنے، دہشت گردی، ڈرگ مافیا، ٹمبر مافیا اور ٹوبیکو مافیا کو پروموٹ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سالانہ 2300 ارب روپے کا ٹیکس کھا جاتے ہیں، اس پر کوئی بات نہیں کرے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹر ہوں تو 800 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جو قومی خزانے میں آ سکتا ہے، اگر ٹوبیکو مافیا ٹیکس دینا شروع کر دے تو500 ارب روپے کا ٹیکس صرف ان سے حاصل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں یہ سارا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے، خیبرپختونخوا میں برسراقتدار تحریک انصاف کے سیاسی لوگوں کی جیبیں بھری جاتی ہیں اور وہ دہشتگردوں کو شیلٹر دیتے ہیں تاکہ ان کی غیر قانونی ٹریڈ چلتی رہے اور پیسہ آتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد فوج، پولیس اور سکولوں پر حملہ تو کرتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی دہشتگرد ان پر حملہ نہیں کرتا جنہوں نے ڈرگ کی ٹریڈ شروع کی ہوئی ہے کیونکہ وہاں سے پیسہ آتا ہے، کوئی دہشتگرد ٹمبرمافیا پر نہیں حملہ نہیں کرتا ۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب افغانستان سے درندازی ہوئی تو پاک فوج نے اس کو بھرپور طریقے سے پسپا کیا، یہ پوسٹیں اور ساز و سامان چھوڑ کے بھاگے، پی ٹی آئی کی حکومت کو اس بات کا دکھ ہے، یہ آج بھی افغانستان کی حمایت میں ان کی ترجمان بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آبادکچہری حملے میں افغانستان پوری طرح ملوث ہے، افغان خودکش بمبار اور اس کے ہینڈلر کی افغانستان میں ٹریننگ ہوئی مگر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے مذمت کا ایک بیان سامنے نہیں آیا، وہ بات کریں گے تو ہمیشہ ان کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دھماکے کے فوری بعد محمود خان اچکزئی نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر بات کی جو صرف کابل، کابل اور کابل پر تھی، اس محبت کی سمجھ نہیں آتی کہ ایک ملک کی سرزمین آپ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، دہشت گرد وہاں سے پاکستان آ کر کارروائی کرتے ہیں اور یہ ان کے حق میں بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج چاک و چوبند ہیں، سرحدوں کو محفوظ کر رہی ہیں، صوبائی حکومت کی کمزوریوں کی وجہ سے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ایک ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں نو مئی کو کور کمانڈر ہائوس میں موجود تھیں مگر ابھی تک ان کو کیفر کردار تک اس لئے نہیں پہنچایا گیا کہ یہ انتقامی کارروائی کا رونا نہ روئیں، یہ نو مئی کو وہاں موجود تھیں جو جتھوں کو لے کر وہاں گئیں اور کیمروں میں نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو معرکہ حق کے بعد خارجہ پالیسی کی کامیابی ہضم نہیں ہو رہی، ان کے دور میں معیشت ڈوب چکی تھی اب معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے جو انہیں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اب انڈین اور افغان چینلز پر جا کر اپنے بھائی کا رونا رو رہی ہیں، کیا نورین خان نیازی نے انڈین چینل کو انٹرویو میں کہا کہ میں مودی کی مذمت کرتی ہوں؟ پاکستان میں معصوم بچوں کی شہادت اور ارتضیٰ عباس کی بات کی؟

مریدکے، بہاولپور میں شہید ہونے والے شہریوں، فوجیوں، جوانوں اور افسروں کی بات کی جو شہید ہوئے، یا ان کو خراج تحسین پیش کیا؟ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جو انڈین چینلز پر جا کر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔ انڈین چینل ان کو اپنا پلیٹ فارم اس لئے مہیاء کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اس فیملی اور پارٹی کی ذہنیت پاکستان کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی چینلز پر جا کر کشمیریوں کی بات کرتے ہیں نہ معرکہ حق کی، نہ اپنے شہداء کی، یہ وہاں صرف اور صرف ایسے قیدی کے بارے میں وکٹمائزیشن کا رونا روتے ہیں جو کرپشن کے کیس میں اندر ہے جس پر 190 ملین پاونڈ کی کرپشن ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خاتون رہنما افغانستان اور انڈین میڈیا کے ذریعے افواہ پھیلاتی ہیں کہ ان کے لیڈر کی جان خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ٹریڈ مل پر روز گھنٹوں بھاگتے ہیں، وی وی آئی پی قیدی ایک فائیو سٹار ہوٹل کی سہولت لے رہا ہے مگر انڈین اور افغان ٹی وی چینلز پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ نے شاندار فتح عطاء فرمائی، کاش نورین خان بھارتی چینلز پر اس کو سراہتیں، مودی حکومت کی مذمت کرتیں، کاش یہ انڈین میڈیا پر بھارت کے گرائے جانے والے سات جہازوں کا ذکر کرتیں مگر انہیں یہ توفیق نہیں ہے کیونکہ ان کے لئے پاکستان کو بدنام کرنا اہم ہے، پاکستان، پاکستان کی سیکورٹی یا مفاد ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہوں نے 9 مئی کو فزیکلی حملہ کیا، نو مئی سازش کے تانے بانے مل گئے ہیں، یہ فوج کو کمزور کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے تمام منصوبے ناکام ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے تھے کہ فوج اندرونی طور پر کمزور ہو اور بھارت کو تقویت ملے اور وہ حملہ کرے۔ ان کو معرکہ حق اور بنیان مرسوس کی فتح آج تک ہضم نہیں ہوئی ہے، ہماری افواج نے پوری دنیا میں اپنا سکہ منوایا، ہماری افواج آج بھی کسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، جس طرح معرکہ حق میں فتح ملی الحمدللہ ہماری بھرپور صلاحیت ہے کہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہےکہ معاملات کو کمزور کیا جائے اسی لئے ان کے ایکس اکاونٹس ملک مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکس میں ایسا فیچر آ گیا ہے کہ جو اکاونٹ جہاں سے آپریٹ ہو رہا ہو، اس کا پتہ لگ جاتا ہے۔ نام نہاد بلوچ اکاونٹس بنے ہوئے ہیں، یہ سارے اکاونٹس انڈیا اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جتنے اکاونٹس فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں وہ سارے انڈیا اور افغانستان سے چل رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اس پر کھل کر بات کی کہ پروپیگنڈا اور زہر اگلنے والوں کو بھرپور نکیل ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکس کےنئے فیچر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اینٹی فوج، اینٹی پاکستان اکاونٹس انڈیا اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ بھارت اور افغانستان سے ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ فوج کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے تو یہ کیا چیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور افواج پاکستان مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ کے باہر تماشا لگانے کا مقصد لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرنا ہے، پولیس کو دھکے دینے، جھگڑے کرنے کی اجازت کسی مہذب معاشرے میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے ان کے اپنے معاملات ہیں جس کے تحت ان کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی، ان کی جماعت میں گروپنگ ہے اور یہ تقسیم کا شکار ہیں، وزیراعلیٰ کہہ رہا ہے مجھے ملوائیں، بہنیں ایک دوسرے کو ایکسپوز کر رہی ہیں، ان کا مطالبہ غیر قانونی ہے، رولز کے مطابق ملاقات کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں، لاء اینڈآرڈر کی صورتحال پیدا کر کے کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ روز ایک جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں، ہم نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ان کا جھوٹا پروپیگنڈا نہیں چلے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے، دنیا کے مالیاتی ادارے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کو سراہ رہے ہیں، ان کے دور میں ایکسچینج ریٹ غیر مستحکم تھا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھ گیا تھا، مہنگائی میں اضافہ اور شرح سود بڑھ چکی تھی۔ اب شرح سود کم ہوئی ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے ماہ 3.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات آئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں کاروبار دوست ماحول ہے، دنیا کے ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں اور یہ انڈیا اور افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اکنامک ایکسپرٹس کو چیلنج ہے کہ وہ آئیں اور اپنے دورکی اکنامک پالیسی کا موازنہ کریں، اس دور کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز اور معاشی پالیسی کا موازنہ کریں، ان کے لیڈر خود کہتے تھے کہ پی ٹی وی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈالر کا ریٹ کیا ہے، یہ کھوکھلے لوگ ہیں، ان کو نہ فارن پالیسی کا پتہ ہے نہ اکنامک پالیسی کا، صرف ایک پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس ہے جس کے تحت یہ جیبیں بھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر جو لوگ سازشوں کے ذریعے پاک فوج اور ملکی سالمیت کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو ہمیشہ تقویت ملے گی اور عزت و وقار میں اضافہ ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.