پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں، کراچی اور گوادر پورٹ کرغزستان کیلئے بہترین رسائی فراہم کر سکتی ہیں،وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے خطاب

اسلام آباد۔4دسمبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں، کراچی اور گوادر پورٹ کرغزستان کیلئے بہترین رسائی فراہم کر سکتی ہیں، دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ، کاسا 1000منصوبے کا پاکستان کا حصہ جلد مکمل ہو جائے گا جبکہ کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف نے تجارت و اقتصادی تعلقات کے فروغ کیلئے مواقع سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرغزستان یورپی منڈیوں کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، ملکر عالمی منڈیوں میں اپنا مقام بناسکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے جمعرات کو یہاں پاکستان-کرغزستان بزنس فورم میں شرکت کی اور فورم سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کرغزستان کے صدر اور انکے وفد کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال بعد کرغزستان کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی تاجر برادری اور وفود کے تبادلے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران تعمیری اور مثبت بات چیت ہوئی۔ اقتصادی تعاون بڑھانے ، ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے اور امن اور ترقی کیلئے ملکر کام کرنے کے حوالے سے اہم تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر اعظم نے ریل اور کنکٹویٹی منصوبے کو خطے کیلئے اہم معاشی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان اور افغانستان کیساتھ پہلے ہی ایم او یو پر دستخط ہوچکے ہیں جس کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان لینڈ لاک ملک ہے، کراچی اور گوادر پورٹ کرغزستان کیلئے بہترین رسائی فراہم کر سکتی ہیں، کرغزستان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 8500 طلباء کرغزستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس حوالے سے جوائنٹ میکنزم بنایا جاسکتا ہے ۔

وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، آئندہ سالوں کے دوران اس میں بڑا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کرغزستان کی قیادت کے ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اس سے استفادہ کرنا چاہیئے ۔ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف شہر اور بشکیک صوفی ازم اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کاسا 1000 کیلئے کرغزستان کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاسا۔1000 منصوبے کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت جاری ہے۔ کاسا منصوبے کا پاکستان کا حصہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ون ونڈو سہولت ہے،پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، کرغز کاروباری افراد اور پاکستانی صنعتکار تجارتی فروغ کیلئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کو آئی ٹی ، اے آئی اور فنی تربیت کیلئے اقدامات کر رہا ہے،پاکستانی ٹیکسٹائل، زراعت اور سیاحتی شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہا ہے، موسمیاتی تبدیلی مشترکہ چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کرغز دوستی کو مضبوط معاشی شراکت میں بدلنا ہے۔ کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پاکستان آمد پر بے حد خوش ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرغزستان اور پاکستان میں تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کرغزستان کو جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاجسٹک رابطوں سے دونوں ملک عالمی مارکیٹوں تک پہنچ سکتے ہیں، کرغزستان یورپی منڈیوں کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، جنوبی ایشیاء اور یورپ کے درمیان تجارت کیلئے پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کرغزستان کی اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچ برس میں کرغزستان کی جی ڈی پی دوگنا ہوئی ہے۔ 2030ء ترقیاتی پروگرام کے تحت بڑے قومی منصوبے شروع کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین، کرغزستان، ازبکستان ریلوے منصوبہ شروع کیا ہے جو نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ کی برآمدات کیلئے کرغزستان میں وسیع مواقع ہیں۔ پاکستانی تاجروں کیلئے کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں کو کرغزستان آ کر مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی۔

Comments (0)
Add Comment