ساختی و ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے نئی معیشت حکومت کی اولین ترجیح ہے ، حالیہ مہینوں میں ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں واضح بہتری آئی ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں پائیدار معاشی ترقی کیلئے نئی معیشت کے فروغ اور ساختی و ادارہ جاتی اصلاحات کو انتہائی اہم ترجیح دے رہی ہے، مضبوط مالی نظم، موثر گورننس، جدید اقتصادی ڈھانچے اور سرمایہ کار دوست اقدامات کے بغیر ملک طویل المدتی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ حکومت اسی سمت میں تیز رفتار اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستانی معیشت جدید خطوط پر استوار ہو اور عالمی معیشت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔حالیہ مہینوں میں ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں واضح بہتری آئی ہے ،برآمدات کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے ، مجموعی برآمدات میں 5فیصد جبکہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 20فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے ، ملک میں ترسیلات زر بھی مضبوط رہی ہے جو گزشتہ سال 38 ارب ڈالر تک پہنچی اور رواں سال 41ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔

اتوار کو یہاں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال آئی ٹی سیکٹر 25 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے جبکہ کان کنی کے شعبے کی سالانہ ممکنہ استعداد 3.5 ارب ڈالر تک ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک کی برآمدات 5 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہیں اور صنعتی پیداوار میں بھی 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس سال ملک کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت قومی معیشت میں نجی شعبے کو مسابقتی بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاہم نجی شعبے کو بھی صنعتوں میں اختراع اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر، خصوصاً نجی شعبے میں، جدیدیت لانا ناگزیر ہے تاکہ یہ قومی معیشت میں ایک حقیقی پیداواری قوت کے طور پر ابھر سکے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9 فیصد سے آگے لے جانا ہوگا۔11ویں این ایف سی ایوارڈ کی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلد تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ جمع ہوں گے اور مثبت پیش رفت کی امید ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے، جو ملک کی معاشی مسابقت کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہ ہم نے آئی ایم ایف کے دونوں جائزے کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جس سے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد پاکستانی معیشت پر مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق گرانٹس کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں اور جولائی سے اکتوبر کے دوران سیمنٹ، پیٹرولیم اور کھاد کے شعبوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں موجود ممکنات کو بروئے کار لانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سال ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کی توقع ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کو ہر پہلو سے مانیٹر کرنا ضروری ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ جلد ایک سمری کی منظوری دے گی جس کے تحت ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کی چیمبرز نے پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ملک قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، آئندہ تین برسوں میں نتائج سامنے آئیں گے، اور اس مقصد کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جا چکے ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق مقامی کمپنیاں نئی مصنوعات تیار کر رہی ہیں جبکہ عالمی سطح کی نئی کمپنیاں بھی توانائی کے شعبے میں پاکستان آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی نئی کمپنیوں کی آمد متوقع ہے اور سال 2026 میں مزید سرمایہ کاری کا امکان ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ قرض کی ادائیگی پر جو بات ہونی چاہئے، وہ نہیں ہو رہی جبکہ نو سال بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجموعی قرض میں اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گلوبل ڈائیگنوسٹک رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس رپورٹ میں موجود بہت سی سفارشات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔

Comments (0)
Add Comment